April 17, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/anosluzdeserrano230.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
State Bank of Pakistan
State Bank of Pakistan

اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 22فیصدپر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے،مہنگائی مالی سال 24ءکی دوسری ششماہی میں واضح طور پر کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔پیر کو سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فروری میں تیزی سے کمی کے باوجود مہنگائی کی سطح بلند ہے اور اس کا منظرنامہ مہنگائی کی بلند توقعات کی بنا پر خطرات کی زد میں ہے۔

اس بنا پر محتاط طرز ِعمل درکار ہے اور ستمبر 2025ء تک مہنگائی کو 5-7فیصد کی حدود میں لانے کے لیے موجودہ زری پالیسی قائم رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ تجزیہ بھی بدستور ہدفی مالیاتی یکجائی (fiscal consolidation)اور منصوبے کے مطابق بیرونی رقوم کی بروقت آمد سے مشروط ہے ۔زری پالیسی کمیٹی نے یہ بات نوٹ کی کہ کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے ہونے والی کچھ اہم پیش رفتوں کے میکرواکنامک منظرنامے کے لئے مضمرات ہیں۔ اوّل، تازہ ترین اعدادوشمار زرعی پیداوار کی بحالی کی بدولت معاشی سرگرمی میں مسلسل معتدل اضافے کے عکاس ہیں۔دوم، بیرونی جاری کھاتے کا توازن توقع سے زیادہ بہتر ثابت ہو رہا ہے ، جس سے مالی رقوم کی کمزور آمد کے باوجود زرمبادلہ کے بفرز کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔

سوم، دسمبر سے کاروباری اداروں کی مہنگائی کی توقعات نے بتدریج اضافے کو ظاہر کیا ہے، جبکہ مارچ میں صارفین کی توقعات بھی بڑھی ہیں۔ آخر میں ، عالمی محاذ پر اگرچہ اجناس کی قیمتوں کا وسیع تر رجحان خوش آئند رہا ہے، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا ایک جزوی سبب بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی ہے۔ مزید برآں، مہنگائی کے امکانات کے متعلق بے یقینی کے حالات میں ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اہم مرکزی بینکوں نے حالیہ اجلاسوں کے دوران محتاط زری پالیسی موقف کو برقرار رکھا ہے۔موصول شدہ ڈیٹا سے مالی سال 24ء میں معاشی سرگرمی میں معتدل بحالی کی زری پالیسی کمیٹی کی ان توقعات کو تقویت ملتی ہے کہ حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2 تا 3 فیصد کی حد میں رہے گی۔ زرعی شعبہ اہم محرک رہا ہے۔

خریف کی فصلوں (خصوصاً کپاس اور چاول) کی اچھی کارکردگی کے بعد گندم کی فصل کے امکانات بھی زیر کاشت رقبے میں اضافے، خام مال کی بہتر صورت حال اور بلند پیداواری قیمتوں کے باعث خوش آئند معلوم ہوتے ہیں۔ سیٹلائٹ کی تصاویر کے مطابق بھی گندم کی فصل کی بھاری کاشت کے تجزیے کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ صنعتی شعبے میں جولائی تا جنوری کے دوران 0.5 فیصد کی معمولی کمی کے باوجود پیداواری استعداد کے بہتر استعمال، روزگار کی صورت حال اور سازگار اساسی اثر (base effect)کے سبب آئندہ مہینوں میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بحالی متوقع ہے۔ مزید برآں، اجناس کے پیداواری شعبوں کے وسیع اثرات اور دیگر اہم اظہاریے خدمات کے شعبے میں بتدریج بحالی کے عکاس ہیں۔

جنوری 2024ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 269 ملین ڈالر رہا۔ اس طرح جولائی تا جنوری مالی سال 24ء کے دوران مجموعی خسارہ 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو سال بسال تقریباً 71 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اس بہتری کی بڑی وجہ تجارتی خسارے میں کمی ہے جس کا سبب برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی، دونوں ہیں۔ برآمدات بڑھنے کی وجہ خوراک کی زائد برآمد ہے جبکہ درآمدی ادائیگیاں اس بنا پر کم رہیں کہ ملکی زرعی پیداوار بہتر ہوئی، ملکی طلب معتدل رہی، اور اجناس کی عالمی قیمتیں معاون ثابت ہوئیں۔ مزید برآں، ترسیلات زر اکتوبر 2023ء سے سال بسال مسلسل بڑھ رہی ہیں جس میں باضابطہ ذرائع سے رقوم کی آمد آسان بنانے کے لیے ضوابطی اصلاحات اور ترغیبات کا کردار ہے۔

مالی رقوم کی آمد جنوری میں معمولی سی کم ہوئی جبکہ اس دوران سرکاری قرضے کی واپسی جاری تھی اور سرکاری اور نجی شعبے کی رقوم کی آمد رُکی ہوئی تھی۔ زری پالیسی کمیٹی کا تجزیہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 24ء کے لیے پیش گوئی یعنی جی ڈی پی کے 0.5 سے 1.5 فیصد کی نچلی سطح کے قریب قریب رہنے کا امکان ہے، جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن کو مدد ملے گی۔مالیاتی کھاتوں کے تازہ ترین ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی یکجائی جاری رہے گی۔ مالی سال 24ء کی پہلی ششماہی کے دوران بنیادی فاضل رقم (primary surplus) بہتر ہو کر جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ہوگئی جو گذشتہ سال اسی مدت میں 1.1 فیصد تھی، جبکہ مجموعی مالیاتی خسارہ مزید بڑھ کر جی ڈی پی کا 2.3 فیصد ہوگیا جو مالی سال 23ء کی پہلی ششماہی میں 2.0 فیصد تھا۔ بنیادی فاضل رقم اور جی ڈی پی کے تناسب میں آنے والی بہتری کے اہم اسباب محاصل کی، خصوصاً نان ٹیکس ذرائع سے بہتر وصولی، اور غیر سودی اخراجات کو نسبتاً محدود رکھنا ہیں۔

سودی ادائیگیوں میں معقول اضافے نے، جبکہ قرضے کی سطح بلند ہے اور مہنگی ملکی فنانسنگ پر بڑھتے ہوئے انحصار کی بنا پر مجموعی خسارے میں اضافہ ہوا۔ زری پالیسی کمیٹی نے زور دیا کہ بحیثیت مجموعی میکرو اکنامک مضبوطی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مالیاتی یکجائی جاری رکھنا لازمی ہے۔ زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے، حسبِ توقع، زرِ وسیع (ایم 2) کی نمو سال بہ سال بنیادوں پر فروری 2024ء میں کم ہوکر 16.1 فیصد ہوگئی جو دسمبر میں 17.8 فیصد تھی۔ یہ اعتدال بینکاری نظام کے خالص ملکی اثاثوں میں کم نمو کی وجہ سے آیا جس کی بنیادی وجہ نجی شعبے کے قرض اور اجناس کی مالکای کے آپریشنز میں وسیع البنیاد سکڑاؤ ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ زرِ بنیاد کی نمو میں کمی کا سلسلہ جاری رہا اور فروری میں یہ تیزی سے کم ہوکر8.2 فیصد ہوگئی۔

مزید برآں، بینک ڈپازٹس میں بھرپور اضافے اور زیرِ گردش کرنسی میں کمی کے رجحان کی وجہ سے کرنسی اور ڈپازٹس کے تناسب میں کمی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ زری مجموعوں کے یہ رجحانات مہنگائی کے منظر نامے کے لئے نیک شگون ہیں۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ عمومی مہنگائی میں وسیع البنیاد اور خاصی حد تک سال بسال نمایاں کمی درج کی گئی، جو جنوری میں 28.3 فیصد سے کم ہوکر فروری کے دوران 23.1 فیصد ہوگئی۔ اگرچہ غذائی مہنگائی میں کمی کا رجحان جاری رہا تاہم قوزی مہنگائی(core inflation)، جو برقرار رہی تھی، گھٹ کر فروری میں 18.1 فیصد رہ گئی جبکہ جنوری میں یہ 20.5 فیصد تھی۔ مہنگائی میں بہتری بڑی حد تک تخفیفی زری پالیسی، مالیاتی یکجائی، خوراک کی بہتر رسد، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اعتدال اور سازگار اساسی اثر کے مشترکہ اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اگرچہ فروری میں توانائی کی مہنگائی میں بھی سال بسال بنیاد پر کمی واقع ہوئی ہے تاہم توانائی کی سرکاری قیمتوں میں ردّوبدل براہ راست اور بالواسطہ طور پر مہنگائی پر اثرانداز ہورہا ہے۔ اس کے صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کی مہنگائی کی توقعات میں مطلوبہ مستقل کمی کے لئے مضمرات ہیں۔ آگے چل کر سرکاری قیمتوں میں مزید ردوبدل یا مالیاتی اقدامات جو قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، قریب مدتی اور وسط مدتی مہنگائی کے منظرنامے کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان خطرات کے پیشِ نظر کمیٹی نے کا تجزیہ تھا کہ اس مرحلے پر زری پالیسی کے موجودہ موقف کو برقرار رکھنا محتاط طرز عمل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *