April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/anosluzdeserrano230.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

میانمارکی رخائن ریاست کے منبیا قصبے میں فوج کی بمباری کے نتیجے میں ۲۰؍ شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ فوج نے باغیوں سے جنگ کے نام پرخاص طورپر مسلمانوں کی آبادی والے روہنگیا گاؤں کو نشانہ بنایا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو غطریس نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ میانمار فوج شہری علاقوں پر بمباری کر رہی ہے۔

Photo: INN

تصویر: آئی این این

رخائن ریاست منبیا قصبے میں میانمار فوج کی جانب سے بمباریوں کے نتیجے میں تقریباً ۲۰؍روہنگیا افراد کی موت ہوئی ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ شہریوں کے مطابق زخمیوں میں بچے ، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیرکی صبح، تھار دارجو منبیا سے ۵؍ کلومیٹر کی دوری پر روہنگیا گاؤں ہے، فضائی حملے کی زد میں آیا تھا۔ مقامیوں کا دعویٰ ہے کہ باغیوں سے جنگ کے نام پرخاص طورپر مسلمانوں کی آبادی والے روہنگیا گاؤںکو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب الجزیزہ کو ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ہمارے گاؤں میں کوئی بھی جنگ نہیں ہوئی تھی پھر بھی انہوں نے ہم پر بمباری کی۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ جنتا حکومت نے پیر کی رات مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ اس درمیان اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو غطریس نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ میانمار فوج شہریوں والے علاقوں پر بمباری کر رہی ہے۔
اس ضمن میں یو این کے چیف کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ رخائن میں بڑھتی جنگ نے نقل مکانی اور پہلے سے موجود امتیازی سلوک میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔سیکریٹری جنرل نے تمام پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکیں۔
خیال رہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کی داستان پرانی ہے جس کے نتیجے میں ملین افراد نے کاکس بازار میں کیمپوں میں پناہ لی ہے۔ ۲۰۱۷ء میں فوج کے کریک ڈاؤن کے بعد سے متعدد مسلمانوں نے اپنے گھر چھوڑ دیئے تھے۔ میانمار کی فوج روہنگیا کو غیر ملکی سمجھتی ہے اور انہوں نے اسی بنیاد پر انہیں شہریت دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *