April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/anosluzdeserrano230.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

امریکی وزیر خارجہ کو بتا دیا اسرائیل واشنگٹن کی حمایت کے بغیر بھی رفح پر حملے کرے گا: اسرائیلی وزیر اعظم

11

مریکی وزیر خارجہ اٹنونی بلنکن سعودی عرب اور مصر کے دورہ کے بعد اسرائیل پہنچے۔ انہوں نے نیتن یاھو کو خبردار کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے شہر رفح پر کسی بھی حملے سے اسرائیل پر “زیادہ تنہائی” مسلط ہوجائے گی اور طویل مدت میں اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

اسرائیل سے نکلتے ہوئے انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں “بے تکلف گفتگو” کی ہے۔ انہوں نے کہا رفح میں کسی بھی زمینی فوجی کارروائی سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکت کا خطرہ ہے۔ اس سے انسانی امداد کے زیادہ تباہ ہونے کا بھی امکان ہے۔ ساتھ ہی اس سے دنیا بھر میں اسرائیل پر زیادہ تنہائی مسلط ہونے اور اس کی طویل مدت میں سلامتی اور استحکام کے خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔

دوسری طرف نیتن یاہو نے کہا انہوں نے جمعہ کے روز بلنکن کو بتا دیا ہے کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت کے بغیر بھی رفح شہر پر فوجی آپریشن شروع کرنے کا عزم لیے ہوئے ہے۔

نیتن یاہو نے بلنکن کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ ہمارے پاس رفح میں داخل ہونے اور وہاں حماس کے بچے کچھے جنگجوؤں کو ختم کیے بغیر حماس کو شکست دینے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ میں نے بلنکن سے کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ میں امریکہ کی حمایت سے ایسا کروں گا لیکن اگر ضروری ہوا تو یہ کام ہم اکیلے بھی کریں گے۔

رفح میں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزین ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی بمباری کے باعث عزہ کی پٹی کے دوسرے علاقوں سے آکر یہاں پناہ لی ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ میں اس حقیقت کی قدر کرتا ہوں کہ ہم حماس کے خلاف پانچ ماہ سے زیادہ عرصے سے جنگ میں ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ہم جنگی علاقوں سے شہری آبادی کو نکالنے اور انہیں انسانی ضروریات کی فراہمی کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور یقینی طور پر ہم اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ بلنکن نے آج نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور زمینی گزرگاہوں اور سمندری راستوں سے انسانی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ بلنکن نے کم از کم چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جو قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائے گا اور انسانی امداد میں اضافہ کرے گا۔

یاد رہے امریکہ کئی ہفتوں سے اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ رفح پر حملہ کرنے سے باز رہے کیونکہ اس حملے سے بڑی انسانی تباہی کا خطرہ ہے۔ بلنکن نے جمعرات کو کہا تھا کہ رفح میں اسرائیلی کا آپریشن کرنا سنگین غلطی ہوگا۔ حماس سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے اس سے بہتر طریقے بھی ہیں۔

آج، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ قرارداد کا مسودہ منظور کرنے میں اس لیے ناکام رہی کہ روس اور چین نے اس کے خلاف ویٹو کردیا تھا۔ اس قرار داد میں غزہ میں فوری اور پائیدار جنگ بندی تک پہنچنے کی انتہائی ضرورت پر زور دیا گیا۔ روس نے کہا کہ یہ قرار داد خالص سیاسی ہے۔ اس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہیں کی گئی۔ قرار داد میں حماس کے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ اس سے قبل غزہ کے حوالے سے تین قرار دادیں امریکہ نے ویٹو کردی تھیں۔ اس قرار داد کے مسترد ہونے کے بعد فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ ہم نئی قرداد لانے پر کام کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *