April 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/anosluzdeserrano230.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
مسلسل لاک ڈاون سے کشمیری تاجروں کوسات ارب ڈالر کا نقصان

مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے  کے بعد مسلسل لاک ڈاون سے جموں وکشمیر کے مقامی کاروباری حلقے کو سات ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔کشمیر چیمبر آف کامرس اور انڈسٹریز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل لاک ڈان کی وجہ سے ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہو چکے ہیں، اس لاک ڈان نے سیاحت اور دستکاری کے شعبے کو شدید نقصان سے دوچار کر رکھا ہے۔  ایک رپورٹ کے مطابق ہینڈی کرافٹس بنانے کا  عمل رک گیا ہے پیپر ماشی کو جموں وکشمیر میں چودہویں صدی میں ایک معتبر کاروبار کی حیثیت حاصل تھی اور اس کے نمونے مختلف معاشروں میں پسند کیے جاتے تھے۔ اس فن کو جمالیاتی فن کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ نئی دہلی حکومت کے سخت لاک ڈان نے کشمیر کے تاجروں، سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد اور فنکاروں کی صلاحیتوں کو کلی طور پر محدود کر دیا ہے۔ ایسے ہنرمندوں میں پیپر ماشی کے فن سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔کشمیر کی دستکاریوں میں کئی فنون شامل ہیں لیکن قالین بافی، پیپر ماشی اور لکڑی پر دلفریب نمونے بنانے کو خاندانی کاروبار اور فنون میں شمار کیا جاتا ہے۔ نسل در نسل ان فنون کی منتقلی ہوتی رہی ہے۔پیپر ماشی کو شوخ رنگوں کی وجہ سے بہت دلکش دستکاری کے نمونے قرار دیے جاتے ہیں۔ پیپر ماشی سے وابستہ خاندان کسی دور میں انتہائی آسودہ حال ہوا کرتے تھے لیکن اب غربت نے ان کے گھروں کی راہ دیکھ لی ہے۔اس فن میں کاغذ کے دستوں کو گیلا کر کے کوٹ کوٹ کر یک جان کر دیا جاتا ہے اور پھر اس گیلے کاغذی مواد کو مختلف صورتوں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان نمونوں کو شوخ رنگوں سے سنوارا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *