April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/anosluzdeserrano230.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو، وزیر خزانہ سمیت 3 ارکان تبدیل، وزیر خارجہ شامل

اسلام آباد(  عترت جعفری  ) میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت اس وقت ائین کے تحت تشکیل پانے واے فورمز اور کابینہ کے تحت کام کرنے والی کمیٹیوں کی تشکیل کے عمل سے گزر رہی ہے، گزشتہ روزائین کے تحت مشترکہ مفادات کی کونسل کی تشکیل نو کی گئی، یہ کونسل ائین کے ارٹیکل 154 کلاز ون کے تحت فیڈر ل  لیجسلیٹو لسٹ کے پارٹ ٹو میں بیان کیے گئے امور کے حوالے سے پالیسیوں کو ریگولیٹ کرتی ہے، کونسل کا اجلاس ہر 90 روز  میں  ایک بار بلانا ضروری ہے، اس کا گزشتہ اجلاس نگران وزیراعظم کی صدارت میں ہوا تھا،  مشرکہ مفادات کی کونسل کے تشکیل نو  ا ہم تبدیلی ہوئی، سی سی ائی کے تین ارکان تبدیل ہوئے ہیں 9جنوری 2024 کو مشترکہ مفادات کی کونسل کی تشکیل نو  ہوئی تھی، جس کے تحت وزیراعظم چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کے بعد باقی تین ارکان میں وزیر خزانہ وزیر نجکاری اور وزیر قانون  اس کے ممبر تھے، تازتشکیل نو میں  وزیر خزانہ ، وزیر نجکاری اور وزیر قانون کو مشترکہ مفادات کی کونسل سے نکال دیا گیا ،  ان ارکان کی جگہ جو نئے ارکان شامل کیے گئے ہیں ان میں وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وفاقی وزیر سیفران  شامل ہیں، ابھی نیشنل فائنانس کمیشن کی تشکیل نو ہونا ہے  عمومی طور پر اس  کے سربراہ وزیر خزانہ ہوتے ہیں، حکومت کی طرف سے اب تک کابینہ کے تحت بننے والی کمیٹیوں کی تشکیل نو ہوئی ہے اس میں وزیر خزانہ کے کردار کو کم کیا گیا ہے اور وزیر خارجہ کے کردار کو بڑھایا گیا ہے، اسحاق ڈار اس سے پہلے بھی مسلم لیگ نون کے تمام ادوار میں درجنوں کمیٹیوں کے سربراہ رہ چکے ہیں، وزیر خزانہ کے طور پر وہ وزارت خارجہ کے بعض امور میں بھی کمیٹی کے سربراہ ہوا کرتے تھے،اس بار بھی ان کو سی سی آئی کی ممبر شپ کے علاوہ حساس ترین کمیٹی جو نجکاری کے امور کو  نمٹائے گی اس کی سربراہی بھی دی گئی ہے ،یہ پہلا موقع ہو گا جب ملک کے وزیر خارجہ اثاثوں کی نجکاری کی کمیٹی کو ہیڈ کریں گے اور وزیر خزانہ اس کے ممبر ہوں گے ،سی سی آئی میں اہم آئینی اور قانونی پیچیدگیاں  فیصلہ کے لئے آتی ہیں تاہم وزیر قانون اس کے ممبر نہیں ،ایسا گمان ہے کہ  اسحاق  ڈار ر کو ان کے تجربہ کی وجہ سے اہم  فورم میں لایا گیا ہے، امکان ہے کہ وہ این ایف سی کا حصہ بھی بنا دئے جائیں ، قانون سازی کے امور کی کمیٹی وزیر قانون اور انرجی کمیٹی کو وزیر آعطم کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *