May 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/anosluzdeserrano230.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
چھرا کِس نے گھونپا۔۔۔

بقول عمران خان جنرل باجوہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔یہ ایساچھرا تھا کہ لاڈلا ابو جی کو تیسری ایکسٹینشن دینے کوتیار ہو گیا ؟؟اور حافظ صاحب کیخلاف اس لئے ہے کہ  بوٹ پالش کرانا ملک سے غداری سمجھتے ہیں۔حافظ صاحب سے عمرانی کلٹ کی نفرت بے جا نہیں۔ جب ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو بنی گالہ کی کرپشن بینقاب کررہے تھے۔ پھر ابو جی باجوہ سے ضد کرکے حافظ صاحب کا تبادلہ کرادیا۔بنی گالہ کی بد قسمتی کہ جس جج کو نکالا وہ آج چیف جسٹس ہے۔ جس ڈی جی آئی ایس آئی کو نکالا وہ آج آرمی چیف ہے۔ جس نواز شریف کو نکالا وہ مسلسل حکمرانی میں ہے۔چھرا تو اس لاڈلے نے ملک کی پیٹھ میں گھونپا ہے۔پاک فوج میں بغاوت کر دو اور ایٹمی اثاثوں پر قابض ہونے کا دشمن کا ایجنڈاپورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر قدرت نے ایسا بندہ بھیج دیا جس نے تمام ارادوں  کو چیر کر رکھ دیا۔سب چور ہیں، سب غلط ہیں، بس میں واحد مہاتما ہوں۔اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا جب اقتدار کو طول دینے کے لئے فوج کے اندر پارٹی بازی کھیلنے لگا تو ابو جی نے بیساکھیاں کرسی سمیت چھین لیں اور تب سے اس خود پرست کے منہ سے حافظ صاحب کے خلاف جھاگ بہتی رہتی ہے۔ فوج کے اندر پھوٹ کی افواہیں بھی یو ٹیوبروں کی اڑائی ہوئی ہیں۔ یو ٹیوبرز خان کے نام کی کمائی کھارہے ہیں۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض بھی آرمی چیف عاصم منیر کے پیچھے کھڑے ہیں۔ جنرل فیض نے تو ایک نجی محفل میں خان کے متعلق یہ تک کہہ دیا تھا کہ ‘‘ میں نے خان جیسا کم ظرف انسان نہیں دیکھا ‘‘۔۔خان کو لانے اور چلانے والے اس کے ہاتھوں دن رات گالیاں کھا کر اپنا بویا کاٹ رہے ہیں مگر فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہیں کہ نو مئی کے کرداروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔حافظ صاحب خان کے لئے آج ڈھیل اور ڈیل دیدیں ، اگلے لمحہ حافظ صاحب چھوٹے ابو جی کہلانے لگیں گے۔ سیاست اور جمہوریت اس شخص کے پاس سے نہیں گزری ، بوٹوں کے صدقے آیا اور بوٹوں کے طفیل رخصت ہو گیا۔ ریاست میں ریاست بنانے کا خواب چکنا چور ہوا ، ملک کے تین ٹکڑے۔ کبھی بنگلہ دیش اور کبھی پاکستان کو سری لنکا دیکھنے کی حسرت بھی رب نے منہ پر دے ماری۔ سانحہ نو مئی کے بعد خان کے ماننے والے اندھے بہرے شخصیت پرستوں کی آنکھوں میں جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کا خوف دیکھا تھا۔ کسی کی ہمت نہیں تھی کہ فوج کو کوئی غلط کہے یا نیازی کا کوئی نام بھی لے۔لیکن الیکشن کے بعد تکبر پھر لوٹ آیا۔ کچھ قانون پر عمل درآمد نہ ہوا اور دوبارہ پاک فوج اور آرمی چیف کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا زہر توسمجھ میں آتا ہے کہ انہیں مغربی شہریت کا زعم ہے کہ انہیں کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا مگر انہیں یہ یقین ہے کہ فوج مخالف پروپیگنڈا ان کا آئی ڈی کارڈ منسوخ اور انہیں پاکستان لینڈ کرتے ہی انہیں گرفتار کراسکتا ہے۔باہر والوں کی شہہ پر پاکستان میں رشتہ دار مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔یہ وہ شخصیت پرست طبقہ ہے جو کبھی جنرل باجوہ کے گن گاتے نہیں تھکتا تھا اور جب انہوں  نے بیساکھی چھین لی تو وہی باجوہ میر جعفر  ہو گئے۔ ؟ اور بوٹ پالشیا ‘‘ مرشد ‘‘ قرار پایا ؟ پھر نو مئی کو فوج مخالف نفرت بغاوت جب رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تو موجودہ آرمی چیف کے خلاف زہر افشانی شروع کر دی ؟ جنرل عاصم منیر نے غداروں اور باغیوں کو بوٹ کی نوک پر رکھا تو 8فروری کے الیکشن میں ان سے نفرت کا ووٹ دیا اور ‘‘ سنی اتحاد ‘‘ کے یتیموں نے پھر سے فوج کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔ پندرہ لاکھ ماہانہ کے مرغ بکرے پھاڑنے والا جیل میں دیسی دنبہ جو پالا جا رہا ہے بلا وجہ نہیں۔ خان کو مارنا مقصد نہیں ، جتنا مرضی مقبول اور مظلوم ہو جائے ، اقتدار اس کا نصیب نہیں۔ نو مئی کاماسٹر مائنڈ اقتدار اور آزادی بھول جائے۔ پارٹی اغوا ہو چکی ہے۔چوھدری پرویز الٰہی کو بھی ہیرو بنا کر پارٹی اس کے حوالے کر دی جائے گی کہ چودھری صاحب بندے ہی اعتماد کے  ہیں۔ریٹائر فوجی اور سول افسران کے عمرانی کرش کی وجہ ان کی بیگمات ہیں۔ ہر فوجی کا خواب جنرل بننا ہوتا ہے۔ ہر سویلین کا شوق فوجی افسران سے رابطہ قائم کرنا ہوتا ہے۔ریٹائرڈ فوجی ترقی رک جانے کا غصہ اور سویلین جرنیلوں سیفیضاب نہ ہونے کا غصہ پی ٹی آئی کا عاشق بن کر نکال رہے ہیں۔آرمی چیف عاصم منیر کی حب الوطنی پر کوئی شبہ نہیں۔یہودیوں کے جوائی اور امریکی ایجنٹ نے فقط اپنی ذات کی خاطر فوج سے نفرت کا جو جال پھیلایا ہے اس کا فائدہ دشمنوں کو ہو رہا ہے۔مصدقہ ذرائع کے مطابق جمائما نے مختلف رابطوں سے آرمی چیف تک پیغام پہنچایا ہے کہ نیازی کو لندن بھیج دیں۔حافظ صاحب غداروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی گھر جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *